Natak

علی تمار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا بتاؤں کہ یہ عشق کیا بلا ہے کچھ بتانے
کو آؤں تو کلیجہ کٹ کہ لبوں کو آتا ہے ۔۔
کیسے روؤں کہ آنسو خشک پتلیوں میں ایک
بپھرتا ہوا سمندر دل کیا کہ مٹھی میں بند
لب پے آہ آنے کو ہے آواز حلق کی قید
میں مقید جسم پہ لرزہ ایسے کہ عشق کی
وحی کا نزول ہو ۔ عقل عیار ساکت عیاری
کا وجود ہو کہ بھی بے وجود جسم بھاری
احساس کی تھکن اعصاب شکستہ جگر میں
پیوست تیز دہار نشتر جو آہستہ آہستہ
جگر کو ایک نئی ٹیس عطا کرنے کو ہیں
پل پل موت کی صورت میں زندگی کا
مزا گلستاں کی آزادی جیسے اجاڑ کھنڈر میں
بے وجود قفس ۔ہجوم شہر ایسے جیسے
بے جان بے آواز پتلے ۔لب شہر خموشاں
کے تاجدار ایسے تاجدار جو ایک بے نیازی
و غرور کے نشے میں مست و مدہوش اپنی
اس خاموش سلطنت کی شہنشہاہیت کا
پر شور خاموشی سے اعلان کر رہے ہیں
گویائ ایسے کہ کان پڑی آواز سنائ نہ
دے تما م شور و سماعت منجمند ۔۔۔
ہاں محسوس ہوا کہ الہام عشق چپکے سے
میری رگوں میں ہنستا مسکراتا اتر رہا ہے
خادم الفقراء سید فاروق علی گیلانی